میمو کاغذ کا ٹکڑا ہے تو ایوان صدر میں اجلاس کیوں بلایا؟ چیف جسٹس

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ میمو محض کاغذ کا ٹکڑا ہے تو ایوان صدر میں اجلاس بلانے کی ضرورت کیوں پڑی ۔ ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی آج چوتھی برسی ہے. اس کی کیا تحقیقات ہوئی۔ میموکیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ نے کی ۔
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 29 اکتوبرکوایوان صدرنے میمو کی تردید کردی تھی ۔ میمومیں اشاروں اورکنایوں کے علاوہ اورکچھ بھی نہیں ۔ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس زیرالتواہے ۔ عدالت کواس معاملے کی سماعت سے گریزکرنا چاہیے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت کے مطابق میمو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے تو پھر اس کاغذ کے ٹکڑے کےلیے ایوان صدرمیں اجلاس بلانے کی ضرورت کیوں پڑی اور تحقیقات پارلیمانی کمیٹی کو کیوں سونپی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ منصوراعجاز نے بلیک بیری ریکارڈ کی 31 تصاویربھیجی ہیں ۔ وہ بیان دینے کےلیے عدالت آنے کوبھی تیارہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ایسی چیزیں برداشت نہیں کرسکتے ۔ فیصلہ عدالت میں ہوتا ہے، پارلیمانی کمیٹی میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیربھٹوکی آج چوتھی برسی ہے ۔ اس کی کیا تحقیقات ہوئی ہے ۔ عدالتوں پرکوئی قدغن نہیں کہ ایسے مقدمات کونہ سنیں ۔ ہم نے توصدرسے بھی جواب مانگا تھا شاید انہوں نے جواب نہ دینا مناسب سمجھا ،حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کسی معاملے پرتحقیق کا مطالبہ کرنا کسی کا بنیادی حق نہیں ۔ عدالت اختیار سے تجاوز کر رہی ہے ۔ حسین حقانی کیلئے بغاوت اور آرٹیکل چھ کا ذکر کیا گیا ۔ کیس کی درخواستوں میں پاگل پن کی حد تک مفروضے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی منصوراعجازسے ملاقات کرکے آتے ہیں تو ٹاک شوز شروع ہو جاتے ہیں اور آرٹیکلز بھی سامنے آجاتے ہیں ۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ آئی ایس آئی کا کیا کردار ہے ۔ آئی ایس آئی کی بات پرجائیں توولی خان اوربی بی بھی غدارہوں گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی اثاثوں کی مالک صرف فوج نہیں بلکہ پوری قوم ہے ۔ ان کا کنٹرول صدر اور وزیراعظم کے پاس ہونا چاہیے جبکہ آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی کو بے دخل کرنا وزیراعظم کا اختیارہے ۔ عدالت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا کیا کام ہے اور کرکے دکھائیں گے ۔۔ درخواست گزاراسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کو میمو پر تحقیق کا مینڈیٹ حکومت نہیں بلکہ پارلیمنٹ ہی دے سکتی ہے ۔ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی

 
ujaalanews.com | OnLine Tv Chennals | Shahid Riaz