Posted by Unknown on Wednesday, October 06, 2010
سابق صدر پرویز مشرف سیاست میں قدم رکھنے کے باوجود اپنے آمرانہ ذہنی رویے سے چھٹکارا نہیں پاسکے۔ دو بار آئین کو توڑنے، لال مسجد میں قتل عام کرانے، شخصی حکمرانی کے لئے ملکی آزادی کا سودا کرنے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت بے شمار بے قصور شہریوں کو فروخت کرنے، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو معطل کرنے، فوج کشی کے ذریعے بلوچوں کے احساس محرومی کو بیزاری کی سطح تک پہنچانے، خیبر پختونخوا کو شعلوں کی نذر کرنے اور میڈیا کا گلا گھونٹنے جیسے طویل ریکارڈ کے باوجود سیاسی پارٹی کی تشکیل کے اعلان سے جو حلقے ان سے جمہوری اقدار کے احترام اور متانت کی توقع رکھتے تھے انہیں جلسے میں کی گئی تقریر سے مایوسی ہوئی جس میں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں پر شدید ذاتی حملے کرتے ہوئے بہت غیرشائستہ لب و لہجہ اختیار کیا گیا اور اخلاق سے عاری انداز اختیار کیا گیا۔ انہیں عقل سے فارغ البال کہا، یہی نہیں بلکہ انہیں کہا کہ شکل اچھی نہیں تو بات تو اچھی کرلو،اگر دوسرے بھی ان کے جواب میں ذاتی حملے کرنے اور کیچڑ اچھالنے لگے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بات کہاں تک جاسکتی ہے۔ ہمارے ملک کی سیاست میں ایسے ادوار آتے رہے ہیں جب کسی سیاستداں ایک دوسرے کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کی ۔ سابق صدر کو وطن اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ان جذبات کا احساس ہونا چاہئے۔لیکن شاید لوگ نہیں جانتے کہ اس سے قبل بھی الیکشن کی مہم کے دوران سیاسی لیڈراسی طرح کی دشنام طرازیوں پر اتر آتے ہیں، رانا ثناء اللہ نے بابر اعوان کو کالی بھیڑ کہا، اور فوزیہ وہاب نے رانا ثناء اللہ کربسوں میں کھڑے ہو کر منجن بیچنے والا کہا، کئی سال پہلے بھٹو مرحوم نے اصغر خان کو آلو کہا کرتے تھے، اور ایک ممتاز سیاستدان میاں دوممتاز خان دولتانہ مرحو م کو چوہا کہا تھا، اس طرح کی عامیانہ ذوق کی باتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھلانے کے لیے کی جاتی ہیں،
Read more »
Posted by Unknown on Wednesday, October 06, 2010
سابق صدر پرویز مشرف نے لندن میں بیٹھ کر اپنی سیاسی پارٹی کا اعلان کرتے ہوئے ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کا عزم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے این آر او پر دستخط کو اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے قوم سے معافی بھی مانگی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے بے نظیر سے ڈیل کی تھی، جس کے تحت یہ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ الیکشن سے پہلے وطن واپس نہیں آئیں گی۔ اس کے بدلے ان کے خلاف دائر تمام مقدمات واپس لینے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ سابق جرنیل کی ان باتوں میں پائے جانے والے تضادات زیربحث لائے بغیر مختلف سیاسی و مذہبی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے بیانات کو دیکھا جائے تو قومی سطح پر یہ اتفاق رائے نظر آتا ہے کہ پرویزمشرف دوبارہ اس ملک پر حکمرانی کے خواب میں اس حد کھو چکے ہیں کہ انہیں زمینی حقائق کی خبر ہے نہ پرواہ۔سیاسی ومذہبی رہنماانہیں قومی مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ وکیل رہنماؤں کا کہنا ہے وہ ملک کے مجر م ہیں اور پوری قوم ان سے نفرت کرتی ہے ۔ وزیرداخلہ رحمن ملک کے مطابق بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کی تھی۔ این آر او مشرف اور پیپلزپارٹی میں نہیں کسی دوسری پارٹی کے درمیان ہوا۔ یہ دوسری پارٹی کون سی تھی۔ اس کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔لیکن مشرف چونکہ اسے اپنی غلطی قرار دے چکے ہیں ۔ تو ضروری ہے کہ اس ایک غلطی کے ساتھ ان کی دیگرغلطیوں کی نشاندہی بھی کر دی جائے۔ ان کے جرائم کی فہرست ویسے تو کافی طویل ہے لیکن چیدہ چیدہ جرائم میں دو مرتبہ آئین میں بگاڑ پیدا کرنا، پاکستانی شہریوں بشمول ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکا کے ہاتھ فروخت کرنا، لال مسجد کا قتل عام ، نواب اکبر بگٹی کا قتل ، 12مئی 2007ء کا خون خرابہ، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو معطل اور گرفتار کرانا، پاکستانی میڈیا کو زیر عتاب لاناشامل ہیں ۔ آپ کے خیال میں جس آدمی کا ماضی اتنا داغدار ہو وہ ایک بار پھر ملک و قوم کی قسمت سنوارنے کا امیدوار کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا پرویز مشرف کی غلطیاں یا ان کے جرائم ایسے ہیں کہ انہیں باآسانی معاف کیا جا سکتا ہے؟ اگر وہ پاکستان آتے ہیں تو کیا قوم ایک بار پھر انہیں گلے لگانے کے لیے تیار کھڑی ہوگی یا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلے گا ؟
Read more »
Posted by Unknown on Wednesday, October 06, 2010
بھارتی عدالت نے تاریخی بابری مسجد کو شہید کرنے کے حوالے سے دائر مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مسلمانوں کے موقف کو مسترد اور بابری مسجد کی اراضی کو رام جنم بھومی قرار دے دیا ہے، ا لہٰ آباد ہائی کورٹ نے متنازع اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کاحکم دیاہے جن میں رام جنم بھومی کاحصہ ہندووٴں، مسجدکی زمین مسلمانوں اور تیسرا حصہ ہندووٴں کے ادارے نرموئی اکھاڑے کو دیا جائے۔فیصلے پر تین ماہ کے اندر عملدر آمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔الہ آباد عدالت کا فیصلہ بظاہر کسی پنچایت کا فیصلہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس فیصلے میں تنازع کا کوئی مستقل حل نظر نہیں آتا بلکہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کا تاثر ملتا ہے۔ سنی وقف بورڈ نے فیصلے کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے لوگوں سے پرُامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
Read more »
Posted by Unknown on Wednesday, September 29, 2010
پاکستان میں ایک روایت یہ رہی ہے کہ امراء حب الوطنی کا رونا تو روتے ہیں لکین انکم ٹیکس کی ادائیگی سے کتراتے ہیں جبکہ بے چارے غریب عوام خون پسینے کی کمائی سے کچھ نہ کچھ انکم ٹیکس ضرورادا کرتے ہیں لیکن انہیں اس مد میں مراعات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امراء کو ٹیکس سے بچانے والے ممالک امداد کی توقع نہ رکھیں، بعض ممالک اپنی ایلیٹ کلاس کو تو ٹیکس سے بچاتے ہیں مگرامریکا سے امداد کی توقع رکھتے ہیں۔ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی نجی آمدن کا تو کیا ہی ذکر وہ تو تنخواہ پر بھی مکمل ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے وضاحت کی کہ وہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ تاہم ان کے اس دعوے کی تردید آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ نے کی جس میں کہا گیا ہے کہ اقتدار کے پہلے سال میں انہوں نے اپنی تنخواہ پر مکمل ٹیکس ادا نہیں کیا۔ آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ نہ صرف وزیراعظم بلکہ ان کے اسٹاف آفیسرز بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان شبیر انور نے کہا کہ کٹوتی میں فرق اور حتمی اسیسمنٹ کے بعد وزیراعظم نے تنخواہ میں سے ٹیکس ادا کیا۔ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں کیا یہ ضروری نہیں ہر وہ شخص جو ٹیکس نیٹ میں آتا ہے ایمانداری سے ٹیکس ادا کرے۔
Read more »
Posted by Unknown on Friday, September 24, 2010
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے چھیاسی سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ وہ گذشتہ کئی سال سے امریکی تحویل میں ہیں۔ اور ان پر وہیں کی ایک عدالت میں امریکی فوجیوں پر گولی چلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہاتھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی سے ہے ۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم امریکہ میں مکمل کی ۔اور وہیں ملازمت بھی کرتی رہیں۔ بعدازاں نائن الیون کے واقعات کے بعد وہ امریکہ چھوڑ کر پاکستان آگئیں ۔اسی دوران امریکی تحقیقاتی اداروں نے ان پر القاعدہ کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا۔اور مشرف دور حکومت میں ایک دن اچانک وہ ائرپورٹ سے اپنے گھر جاتے ہوئے راستے میں لاپتہ ہو گئیں۔کسی ادارے یا خفیہ ایجنسی نے انہیں تحویل میں لینے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور پھر کئی سال بعد افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی جانب سے زخمی حالت میں ان کی گرفتاری کا انکشاف ہوا۔ان کی افغانستان میں موجودگی اور امریکی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کی خبر کو دنیا بھر کے میڈیا نے نمایاں طور پر پیش کیا۔ بعدازاں انہیں امریکا منتقل کردیا گیا۔ اور انہیں سات مقدمات میں امریکی عدالت کی جانب سے اب چھیاسی سال کی قید سنائی گئی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے حکومت پاکستان بھی اپنی کوششیں کرتی رہی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان میں سول سوسائٹی اور بعض سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی انہیں ضمیر کی قیدی قرار دیتے ہوئے ان کی باعزت رہائی اور پاکستان واپسی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ بھی ان پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت سے انکار کرتے رہے ہیں۔اس تمام صورتحال کے باوجود امریکی عدالت کی جانب سے ایک خاتون کو اتنی کڑی سزا دیے جانے پر یقینی طور پر ضمیر عالم کو دھچکا لگا ہو گاکہ آخر امریکا جیسی سپر طاقت ایک نہتی خاتون سے اس قدر خائف کیسے ہو گئی کہ پہلے تو اسے ٹارچر کیمپوں میں رکھا گیا اورپھر اس پر کئی ایک مقدمات قائم کر کے اسے عمر قید سے بھی زیادہ کی سزاسنا دی گئی۔ آپ کے خیال میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ایسا قصور کیا ہو سکتا ہے کہ امریکی عدالت اتنی بڑی سزا سنانے پر مجبور ہوئی؟ کیا حکومت پاکستان اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کو یقینی نہیں بنا سکتی تھی ؟ ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ امریکی شہری نہیں تھیں۔ کیا ایک پاکستانی شہری کو امریکی عدالت کے ذریعے سزا سنائے جانے کو برحق قرار دیا جاسکتا ہے ؟ اگر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کے الزام کو درست بھی مان لیا جائے تو کیا کسی بھی دوسرے ملک میں ہونے والے واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو کسی اور ملک میں منتقل کر کے اپنی مرضی و منشا کے مطابق سزا دی جاسکتی ہے ؟ اس سلسلے میں عالمی قوانین کیا کہتے ہیں ؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کیا سوچتے ہیں؟
Read more »
Posted by Unknown on Friday, September 24, 2010
حکومت کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈ میں کٹوٹی کے اعلان کے بعد جامعات کے وائس چانسلر ز نے مصلحت سے بالاتر ہوکر غریب طلباء کے مفاد میں حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے ،ملک بھر کی 72 سرکاری یونیورسٹیاں 22 ستمبر کو مکمل طور پر تعلیمی بائیکاٹ کریں گی، اساتذہ، طلبہ و طالبات بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر وزیر خزانہ کے خلاف احتجاج اور استعفے کا مطالبہ کریں گے۔ فیڈریشن آف پاکستان اکیڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر پروفیسر مہر سعید اختر اور پنجاب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ظفرنے کیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں کلاسوں کابائیکاٹ ہو گا اور یوم سیاہ منایا جائیگا اس کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے تمام وائس چانسلرز اور پروفیسرز اساتذہ وزیر خزانہ کے خلاف مظاہرہ کریں گے جامعات کی کم از کم اہم اور بنیادی ضروریات پوری کی جانی چاہییں، وائس چانسلر جامعہ کراچی پیرزادہ قاسم نے بتایا کہ ملک بھر کی جامعات کے لیے صرف 11 بلین روپے دیے جاتے ہیں جو بہت کم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جامعات فی الحال خود اپنے لیے فنڈز جمع نہیں کر سکتیں،طالب علموں کی فیس سے جامعات کی بمشکل4فیصد ضروریات پوری ہو پاتی ہیں اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانی طالب علموں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔پروفیسر جامعہ پنجاب مہر سعید اخترنے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کا چاہیے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز بڑھا دیے جائیں ،کیونکہ جامعات کے اخرجات بڑھ گئے ہیں ،جامعات کو رقم دینا سرمایہ کاری کرنا ہے،بنیادی ضرورت کا تعین کرکے اخراجات کے لیے فنڈز دیں تعلیم کبھی بھی حکومت کی ترجیحات میں نہیں رہی اور اگر فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو ہم راست اقدامات کرینگے۔
Read more »
Posted by Unknown on Friday, September 24, 2010
موجودہ حکومت کی کارکردگی پہ عوامی سطح پر انگلیا ں اٹھائی جارہی ہیں، ہر طرف سے یہی کہا جارہا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری ، قتل و غارت گری پہ انتظامیہ کی خاموشی اور اب سیلاب زدگان کی فوری مدد کو نہ پہنچنا جیسے معاملات نے ہر بڑی اور چھوٹی سیاسی پارٹیوں کو یہ سوچنے سمجھنے مجبور کردیا ہے کہ حکومت میں تبدیلی لائی جائے۔ تاکہ ناقص کارکردگی کا ازالہ ہوسکے اس سلسلے میں الطاف حسین کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت اپنی اصلاح نہیں کرتی تو آئین کے تحت تبدیلی لائی جانی چاہیے، حکومت کی ناکامی کو جمہوریت کی ناکامیوں سے تشبیہ نہ دی جائے، میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی، صدر آصف علی زرداری سے صدارت یا وزارت عظمی نہیں مانگی صرف ملک کی بہتری چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن جس طرح قوم پر مظالم کیے گئے اس کا حساب ہونا چاہیے، مارشل لاء کی بات کرنا جرم ہے ، وزیراعظم سیلاب متاثرین کے لئے کمیشن بنانے کا وعدہ کرکے غائب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ میثاق پاکستان کے نام پر تمام سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور ادارے پاکستانی مسائل کے حل کیلئے 25 سالہ پلان کا اعلان کریں میں اس کیلئے اپنی خدمات دینے کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کو ناکام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور کچھ لوگ مارشل لاء لگانے کا کہہ رہے ہیں مگر پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے ہی وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ بڑے بڑے مذاق کئے ہیں جو شخص بھارت سے 90 ہزار فوجیوں کو رہا کروا کر لایا تھا اس کو پھانسی دی گئی اور جس جرنل نے دشمن کے سامنے ہتھیار پھینکے اس کو قومی پرچم میں سلیوٹ کے ساتھ دفنایا گیا، دنیا میں جمہوریت کامیاب ہو رہی ہے لیکن پاکستان میں اسے کیوں ناکام کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا رویہ اگر اسی طرح رہا اور اسے تبدیل نہ کیا گیا تو عوام بھی اس کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہو گی‘ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے‘ بہتر گڈ گورنس لائے اور عوامی مسائل حل کئے جائیں۔
Read more »
Posted by Unknown on Wednesday, September 15, 2010
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے پاکستان واپس آکر عملی سیاست میں حصہ لینے کی تیاریاں کر لی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے پرویز مشرف فاؤنڈیشن کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ سابق صدر نے انتہائی قلیل وقت میں سیلاب زدگان کے لیے کروڑوں روپے اکٹھے کر کے یہ بات بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے لوگ اب بھی ان پر اعتبار کرتے ہیں اور ان کی صرف ایک اپیل پر دل کھول کر امداد دینے کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ جنرل مشرف کی ان سرگرمیوں کے جواب میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف پاکستان میں کئی قسم کے مقدمات قائم ہیں اور اگرانہوں نے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی تو ان کا استقبال چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔یہ الگ بات ہے کہ انہیں رخصت یوسف رضا گیلانی ہی حکومت نے کئی توپوں کی سلامی دے کر کیا تھا۔ لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ جو کچھ جنرل مشرف کرتے رہے ہیں پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت بھی وہی کچھ کر رہی ہے۔ مہنگائی اس وقت بھی زوروں پر تھی۔ مہنگائی اس وقت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ بے روزگاری کے خاتمے لیے جنرل مشرف نے بھی کوئی اقدام نہیں کیا تھا ۔ موجودہ اتحادی بھی عام لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے کسی قسم کی منصوبہ بندی سے عاری ہیں۔قتل ، ڈکیتی ، چوری، راہزنی کی وارداتیں اس وقت بھی عام تھیں۔ آج بھی جاری و ساری ہیں۔خودکش بم دھماکے اس وقت بھی روزمرہ کا معمول تھے۔آج بھی اس عفریت سے نجات ممکن نہیں۔ بلوچستان میں آپریشن جنرل مشرف نے بھی کیا تھا۔ یہی ارادے اب وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے بھی ظاہر کیے ہیں۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اس بھی عام تھی۔ اب بھی اس پر کنٹرول کی کوئی سبیل نہیں نکالی گئی۔میڈیا اور عدلیہ کے خلاف جنرل مشرف بھی صف آراء تھے ۔ موجودہ حکومت بھی اس سے دو ہاتھ آگے جا کر میڈیا اور عدلیہ کا گلا گھونٹنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔اس صورتحال میں اگر پرویزمشرف وطن واپس آکر سیاست میں حصہ لیتے ہیں تو عوام الناس کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آسکتی ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہمیں تلاش کرنا ہے۔ لوگ یقینی طور پر موجودہ حکمرانوں سے انتہائی بدظن ہیں۔ لیکن اس کے متبادل کے طور پر کیا انتظام لایا جائے ۔ اس سلسلے میں ہر ایک اپنی اپنی سوچ اور رائے ہو سکتی ہے۔ کوئی ایسا انتظام جس میں ٹیکنوکریٹس ہوں یا الطاف حسین کے بقول محب وطن جرنیل ہوں۔یا عدلیہ کی زیرنگرانی بنگلہ دیش طرز کا کوئی نظام لایا جائے۔ یا مشرف کو دوبارہ مسند اقتدار پر بٹھایا جائے۔ اگر وہ واپس آتے ہیں تو ان کا استقبال کون کرے گا۔ کیا واقعی ان کے خلاف اتنے مقدمات ہیں کہ انہیں چیف جسٹس کی عدالت میں حاضری بھرنی پڑے۔ کیا عوامی سطح پر ان کی اتنی مقبولیت ہے کہ عوام ان کے استقبال کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ کیا فوج میں اب بھی ان کے لیے نرم گوشہ موجود ہے کہ ایک ادارے کے طور پر ان کی واپسی کی راہ ہموار کی جائے۔آخر ان کا استقبال کون کرے گا؟
Read more »
Posted by Unknown on Wednesday, September 15, 2010
بھارتی اخبار کے سروے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے 66 فیصد کشمیریوں نے بھارت سے آزادی کا مطالبہ کردیا ہے ، 6 فیصد کشمیری پورے جموں و کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ، 56 فیصد کشمیری حالیہ فسادات کا ذمہ دار بھارتی حکومت کو سمجھتے ہیں جبکہ 44فیصد بھارتیوں کا کہنا ہے کہ وادی کے خراب حالا ت کیلئے ہمسایہ ملک پاکستان ذمہ دار ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار ” ہندوستان ٹائمز “ کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی تقریباً دو تہائی آبادی اپنے خطے کی آزادی چاہتی ہے ۔ دو حصوں میں تقسیم کشمیر کے خطے کا انتظام پاکستان اور بھارت الگ الگ سنبھالتے ہیں ، بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تقریباً 20 سال سے حق خود ارادیت اور علیحدگی کی تحریک جاری ہے جس کے باعث اب تک 47 ہزار افراد کی زندگیاں لقمہ اجل بن چکی ہیں ۔ ہندوستان ٹائمز کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے 66 فیصد کشمیری ایک نئے ملک کی حیثیت سے پورے جموں و کشمیر کی مکمل آزادی چاہتے ہیں جبکہ صرف 6 فیصد پورے جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ چاہتے ہیں ۔ سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حالیہ پرُتشدد واقعات کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں تو 56 فیصد کشمیریوں کا کہنا تھا کہ اس کی ذمہ دار بھارتی حکومت ہے جبکہ 44 فیصد بھارتیوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے حالات کا ذمہ دار ہمسایہ ملک اور روایتی حریف پاکستان ہے۔ سروے کے مطابق 96 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ فورسز کو کشمیری مظاہرین پر گولی نہیں چلانی چاہئے۔
Read more »
Posted by Unknown on Wednesday, September 15, 2010
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ملک کو کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلانے کے لیے محب وطن جرنیلوں کو آگے آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس طرز کا کوئی طرز حکمرانی سامنے آتا ہے تو ایم کیوایم اس کی حمایت کرے گی۔ لندن سے جنرل ورکرز اجلاس سے اپنے ٹیلی فونک خطاب میں ایم کیوایم کے قائد نے ملک میں انقلاب فرانس جیسی تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔الطاف حسین کے اس دھماکہ خیز بیان کے بعد ملک میں نظام کی تبدیلی کے حوالے سے نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اس بیان کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے جمہوریت کے خلاف سازش سے تعبیر کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ بارکا کہنا ہے کہ الطاف حسین کا یہ بیان آئین کے آرٹیکل 6کے زمرے میں آتا ہے ۔جبکہ ایم کیوایم کے رہنما اپنے قائد کے بیان کے محرکات بیان کرتے ہوئے پرامید ہیں کہ انہوں نے جو تجویز پیش کی ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔انہیں یہ بھی یقین ہے کہ وہ موجودہ نظام کا حصہ رہتے ہوئے نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے ۔معروف شاعر صدیق منظر نے بھی اپنی ایک نظم میں پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے سیاستدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے۔
Read more »
Posted by Unknown on Wednesday, September 15, 2010
بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بدترین سیلاب پر عالمی ردعمل تباہ کاری کے تناسب سے کافی کم ہے، خدشہ ہے کہیں امداد آتے آتے بہت دیر نہ ہوجائے، تعمیر نو اور بحالی میں کئی برس تاخیر ہوسکتی ہے نیز صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر میڈیا کو بھی انہی سیلاب زدگان کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔ کیونکہ سیلابی صورتحال ایک حد تک تشویشناک ہوتی جارہی ہے، اور متاثرین سیلاب اپنے علاقوں سے منتقل کئے جارہے ہیں، اور بے یار و مددگار ہیں، وہ حسرت بھری نگاہوں سے مالی و مادی امداد کے لئے اپنے ہموطنوں کی کی طرف دیکھ رہے ہیں، ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے سیکریٹری جنرل بیکلے گیلیٹا نے برطانوی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں کہا کہ اب تک مطلوبہ ہنگامی امداد کا صرف ایک چوتھائی ہی پہنچ سکا ہے۔ عالمی برادری تباہی کو اموات کی تعداد سے جانچنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ سیلاب سے فصلیں برباد ہوگئی ہیں، جبکہ نہری اور آب پاشی نظام سمیت زرعی اور دیگر انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے۔ اس پورے نظام کی بحالی میں کم از کم پانچ سال کاوقت لگ سکتا ہے۔گیلیٹا نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مطلوبہ امداد فوری طورپرنہ ملی تو صورت حال نہایت سنگین ہوسکتی ہے۔ وبائی امراض پھوٹنے اور غذائی قلت سے خاص کر بچے اور معمر افراد کی اموات کی شرح بڑھ سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ بیرونی ممالک سے ہنگامی اور طویل مدتی امداد کے وعدے ناکافی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کیلئے سیلاب کی تباہ کاری سے اکیلے نمٹنا تقریباً ناممکن ہے۔ مقامی اور عالمی سطح پر سنگین صورت حال پر توجہ درکار ہے۔
Read more »
Posted by Unknown on Saturday, September 11, 2010
وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہاہے کہ بلوچستان میں اساتذہ،مزدوروں، دکانداروں اوردیگربے گناہ افرادکی ٹارگٹ کلنگ پرحکومت کاپیمانہٴ صبرلبریزہوچکا،قیام امن کے لئے نوابزادہ حیربیار،براہمداغ بگٹی اورخیربخش مری سے رابطے کئے مگرمثبت جواب نہیں آیا،ہم نے پہلے پیارسے بات کی اب ایکشن ہوگااورنتیجہ قوم خوداپنی آنکھوں سے دیکھے گی، ان تمام عناصرکوآخری بارخبردارکررہے ہیں کہ وہ مذموم کارروائیوں سے باز آجائیں اورحکومت کے ساتھ مذاکرات کریں،آئندہ کسی نے قومی پرچم کی بے حرمتی کی تواسے معاف نہیں کیاجائیگا اورسخت ایکشن لیاجائیگا جس کاانہیں اندازہ نہیں ہے،اب حکومت ڈنڈا چلائے گی اور بلوچستان میں سوات طرز کی کارروائی کرینگے ، اس سلسلے میں عید کے بعد ملک کے تمام مسالک کے علمائے کرام سے ملاقات کروں گا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ بہت ہو گئی، ہم نے پیار سے بات کی تاکہ لوگ خود صحیح راستے پر آجائیں، اب حکومت ڈنڈا چلائے گی تو صورتحال عوام اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ جس صوبے میں سیاسی جماعتوں کی جگہ مسلح لبریشن پارٹیاں لے لیں تو وہاں سیکورٹی فورسز کو کارروائیاں کرنی ہی پڑتی ہیں ۔ متشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے،رحمن ملک کاکہناتھا کہ جن افراد کے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغواء کا واویلہ کیا جاتا ہے ان کی ایک تعداد دبئی ، سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں قیام پذیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو خراب کرنے میں غیر ملکی پیسہ استعمال ہو رہا ہے اور غیر ملکی ہاتھ پوری طرح ملوث ہے ۔میں ایک بات دوبارہ واضح کرتا ہوں کہ اگر آئندہ کسی نے پاکستان کاپرچم اتار کر اس کی بے حرمتی یا جلانے کی کوشش کی تو اسے کسی صورت معاف نہیں کیاجائیگا میں تمام جماعتو ں کو پاکستان کے سبز جھنڈے تلے مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔
Read more »
Posted by Unknown on Thursday, September 02, 2010
پاکستان کرکٹ ٹیم کے حوالے سے حال ہی میں سامنے آنے والے میچ فکسنگ کے نئے اسکینڈل میں سب سے زیادہ نقصان فاسٹ بالر محمد عامر کا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ بہت کم عرصے میں اپنی تیز رفتار اور ریورس سوئنگ بولنگ سے محمد عامر نے دنیائے کرکٹ میں اپنے لیے جو مقام پیدا کیا ہے وہ بہت کم کھلاڑیوں کو نصیب ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان کے لیے ہمدردی کے جذبات موجود ہونے کے ساتھ دیگر ممالک کے کھلاڑی بھی انہیں مذکورہ اسکینڈل میں ملوث قرار دیے جانے پر افسردہ دکھائی دیتے ہیں۔برطانیہ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ محمد عامر جیسے کھلاڑی کو سزا کی نہیں ،اصلاح کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کا مستقبل ہے اور اسے کسی اسکینڈل میں ملوث قرار دے کر ضائع کر دینا نہ صرف پاکستان بلکہ بہ حیثیت مجموعی کرکٹ کے ساتھ بھی زیادتی ہو گی۔ وہ نچلے لیول سے کرکٹ کھیلتے ہوئے قومی ٹیم میں آئے ہیں۔ زیادہ پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر ہونے والے معاملات اور اچھے برے کی تمیز کرنے میں انہیں فی الوقت دشواری ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کی اصلاح کے لیے کوئی بندوبست کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ان کے بہتر مستقبل کے لیے کیا ضروری ہے۔ تو یقینی طور پر وہ اپنے آپ کو درست کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور غلط صحبت میں پڑ کر اپنا پورا کیرئیر داؤ پر لگانے کی غلطی نہیں کریں گے۔ اسی طرح آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے سابق کوچ جیف لاسن کا کہنا ہے کہ دنیا اس پورے معاملے کو اپنے انداز میں دیکھ رہی ہے۔ جبکہ پاکستان میں سٹہ مافیا اس قدر مضبوط ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے اہل خانہ کو اغوا ء اور قتل کی دھمکیاں دے کر اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ پاکستان ٹیم کے کوچ تھے تو ایک کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنے لیے اتنا دباؤ تھا کہ معاملہ صدرمشرف تک لے جانا پڑا جس کے بعد کھلاڑی کی جان بخشی ہوئی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے نوجوان کرکٹرز کی سٹے باز مافیا کے ساتھتعلقات کی باتیں کچھ نہ کچھ سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم کسی بھی کھلاڑی کے مجرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اس کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیتے ہیں۔ جب غیرملکی کھلاڑی اور تبصرہ نگارہمارے کھلاڑیوں کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھ سکتے ہیں تو کیا ہم تھوڑا بہت ہی سہی انہیں شک کا فائدہ نہیں دے سکتے ؟
Read more »
Posted by Unknown on Tuesday, August 31, 2010
قومی کرکٹ ٹیم مسلسل شکستوں کا داغ دھونے میں اوول کے میدان میں کامیاب کیا ہوئی کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق لارڈز کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں ایک بار پھر میچ فکسنگ کے الزامات میں پھنس گئی ہے۔ایک برطانوی اخبار کے مطابق پولیس نے لندن کے ایک ہوٹل سے مظہر مجید نامی ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر اپنے سامنے نوٹوں کے ڈھیر لگائے بیٹھا تھا اور اس کا دعویٰ یہ تھا کہ لارڈز کا میچ پاکستان کرکٹ ٹیم نے فکس کیا ہوا ہے۔ مذکورہ شخص نے اپنے اس دعویٰ کی صداقت کے لیے کچھ وڈیوز کے ذریعہ یہ بات بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ محمد عامر اور محمد آصف کی کون کون سی بال طے شدہ پلان کے مطابق نو بال تھی۔میچ فکسنگ میں جن دیگر کھلاڑیوں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں کپتان سلمان بٹ اور نائب کپتان کامران اکمل بھی شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر برطانوی پولیس نے ان چاروں کھلاڑیوں کے پاسپورٹ ضبط کر لیے ہیں اور ان سے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔ جبکہ پاکستانی حکومت نے بھی ان الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کھلاڑیوں پر ہوٹل کے باہر گندے ٹماٹر بھی پھینکے گئے ہیں۔ تمام حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یقینی طور پر میچ فکسنگ کے نئے الزامات نے پاکستان کرکٹ کے پہلے سے کمزور ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ان الزامات کی صداقت کے حوالے سے چند بنیادی نوعیت کے سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ میچ فکسنگ کے طریقہ ء کار اور قواعدوضوابط سے آگاہی رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ جس انداز میں پولیس نے مذکورہ بکی کو گرفتار کیا ہے۔ بکیوں کا طریقہ ء کار کبھی بھی اس طرح نہیں رہا کہ وہ ٹیبل پر نوٹ بچھا کر بیٹھ جائیں ۔ پھر یہ بھی اصول رہا ہے کہ میچ فکسنگ کبھی بھی نوبال پر نہیں ہوئی۔ان مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کرکٹ کے خلاف بھارتی لابی کی ایک نئی سازش ہو سکتی ہے۔ محمد عامراور محمد آصف اس وقت انتہائی فارم میں ہیں۔اور ان کا کیرئیر تباہ کرنے کی سازش کو کلی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔خاص کر محمد عامر نے جس انداز میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ہے۔ وہ ان کے انتہائی روشن مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اگر ابھی سے وہ میچ فکسنگ جیسے بے ہودہ الزامات کی زد میں آگئے تو یقینی طور پر ان کا کیرئیر داؤ پر لگ سکتا ہے۔
Read more »
Posted by Unknown on Thursday, August 26, 2010
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ملک کو کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلانے کے لیے محب وطن جرنیلوں کو آگے آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس طرز کا کوئی طرز حکمرانی سامنے آتا ہے تو ایم کیوایم اس کی حمایت کرے گی۔ لندن سے جنرل ورکرز اجلاس سے اپنے ٹیلی فونک خطاب میں ایم کیوایم کے قائد نے ملک میں انقلاب فرانس جیسی تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔الطاف حسین کے اس دھماکہ خیز بیان کے بعد ملک میں نظام کی تبدیلی کے حوالے سے نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اس بیان کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے جمہوریت کے خلاف سازش سے تعبیر کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ بارکا کہنا ہے کہ الطاف حسین کا یہ بیان آئین کے آرٹیکل 6کے زمرے میں آتا ہے ۔جبکہ ایم کیوایم کے رہنما اپنے قائد کے بیان کے محرکات بیان کرتے ہوئے پرامید ہیں کہ انہوں نے جو تجویز پیش کی ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔انہیں یہ بھی یقین ہے کہ وہ موجودہ نظام کا حصہ رہتے ہوئے نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے ۔معروف شاعر صدیق منظر نے بھی اپنی ایک نظم میں پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے سیاستدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے۔
تمہیں اعزاز بخشا ہے کروڑوں دل جلوں ،بے روزگاروں ، غم کے ماروں نے
گرجتی گونجتی شوریٰ میں تقریروں سے کب فاقے بہلتے ہیں
ہمارے اور تمہارے درمیاں میدان سجنا ہے، ہمیں پیروں ، فقیروں اور وڈیروں سے وطن آزاد کرنا ہے
تھکے ہارے زمانوں کے ، یہ گرد آلود چہرے اور ہاری کس طرف ہوں گے ، سرمیدان دیکھیں گے
تماشا گر سیاست کے یہ پیشہ ور مداری کس طرف ہوں گے
تم اب کے لوٹ کر جاؤ گے اپنے گاؤں ، گلیوں اور شہروں میں
تو اپنے چوک ، چوراہے ، صلیبیں ، سولیاں ، خود منتخب کر لو
تمہیں اب آخری موقع یہ بے بس قوم دیتی ہے، اگر چاہو تو خود کو سرخرو کر لو
تمہاری بالا دستی کا یہ جمہوری تماشا پھر نہیں ہوگا۔
ایک شاعر نے اپنی اس نظم میں جو منظر کشی کی ہے۔ وہ رشوت ، بدعنوانی ، اقرباء پروری، لوٹ مار، ظلم وتشدداور جعلی ڈگریوں کے سیلاب میں بہتی ہوئی بے سہارا قوم کے دل کی آواز دکھائی دیتی ہے۔ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کو بھی اسی نظم کے تسلسل میں دیکھا جائے تو بہت سے نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔جن کا جواب جاننا ہماری اورآپ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کیا کرپٹ سیاستدانوں سے نجات کے لیے جس انقلاب کی ضرورت ہے وہ پاکستان جیسے معاشرے میں وقوع پذیر ہو سکتا ہے؟
کیا مارشل لاء ہی بحران کا حل ہے۔سیاستدانوں اپنی اصلاح خود نہیں کر سکتے ؟
کیا کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف کارروائی صرف فوج کر سکتی ہے؟
کیا اس سے پہلے نافذ کیے گئے مارشل لاء کرپشن کے خاتمے میں کامیاب رہے؟
Read more »
Posted by Unknown on Thursday, August 26, 2010
سیالکوٹ میں رونما ہونے والے دو بھائیوں کے بہیمانہ قتل نے ساری قوم کو ہلا کے رکھ دیا ہے جہاں پر ہجوم لوگوں کی موجودگی میں کچھ درندہ صفت لوگوں نے ان دوبھایئوں کو وحشیانہ طریقہ سے ڈندوں پتھروں اور زنجیروں سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اورمارنے کے بعد انہیں ایک ٹرالر پہ گھمایا۔ان میں پولیس ریسکیو کے علاوہ عام شہری بھی شریک ہوئے،وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ سانحہ سیالکوٹ قومی المیہ ہے ، دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی،واقعہ میں ملوث افراد کو اسی جگہ لٹکایا جائیگا جہاں دو بھائی قتل ہوئے، سیالکوٹ کے عوام انکوائری کمیشن سے تحقیقات میں تعاون کریں، شہریوں کو قانون ہاتھ میں لینے اور اپنی عدلیہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے،4
پولیس ملزمان سمیت 10 افراد کو گرفتار کر لیا،پولیس اہلکاروں کو جرم کے مطابق سزا ملے گی ، سیالکوٹ میں سرعام قتل کئے جانے والے دو بھائیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ ان ملزمان کو سزا ملے ،پولیس اہلکار بھی ذمہ دار ہیں، وزیراعلی پنجاب قابل اور اچھے انسان ہیں پولیس کی کوتاہی کا نوٹس لیں گے، معاملے پر سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کارروائی کی جائے گی ،ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کئے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ واقعہ کے عینی شاہدین کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی، ہمیں معاشرے کو سدھارنا ہے اور اس کیلئے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو دس سال قید کی سزا ہوگی۔ سیالکوٹ واقعہ کی انکوائری رپورٹ میں پولیس کا کردار سامنے آ جائے گا۔
کیا اس طرح قانون سے کھیلنے کی اجازت قانون کے محافظو ں کو دی جاسکتی ہے؟
پولیس کے اس مجرمانہ فعل کی پردہ پوشی کرنے والوں کو سزا نہیں دینی چاہئے؟
کیا اس طرح کے واقعات جرائم کو فروغ دینے میں مددگار نہیں ہوں گے؟
اس طرح کے بہیمانہ قتل اور پولیس کے کردار پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Read more »
Posted by Unknown on Thursday, August 26, 2010
یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ ہر سال رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی اپنی عروج پر ہوتی ہے، اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں دوگنا اور تین گنا تک اضافہ کردیا جاتا ہے، اورحکومت کا اعلان کردہ رمضان پیکیج دھرے کا دھرے رہ جاتاہے جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔ خصوصا ًاس وقت رمضان ایسے وقت آیا ہے جب سارا ملک سیلاب کی زد میں ہے، ہر طرف آہ و بکا مچی ہوئی ہے لوگ پریشان ہیں، ٹرانسپورٹ اور مال برداری کا فقدان ہے، راستے بند ہیں، سڑکیں پانی ڈوب رہی ہیں اور فصلیں سیلابی ریلے کی نذر ہوچکی ہیں ، دو کروڑ عوام مدد کے لئے پکار رہے ہیں، انتظامی مشینری فیل ہوچکی ہے، رمضان میں ویسے ہی اشیاء ناپید ہوجاتی ہیں اور مہنگی بھی، اب جبکہ سیلاب سب کچھ بہا لے گیا ہے، عوام سوچ رہے ہیں گھر بار تباہ ہوگئے ہیں، اس رمضان میں کیا ہوگا ؟ سحر و افطار کیلئے جب چیزیں ہی نہ ملیں گی تو عوام رد عمل کیا ہوگا، اشیائے خوردنی کی ترسیل کا سلسلہ بند ہے،حکام کے سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی کے دعوے میں کہاں تک کامیاب ہوں گے؟ کیا عوام کو ریلیف مل سکے گا؟ کیا ماہ رمضان میں مہنگائی پہ قابو پالیا جائے گا؟ کیا سیلاب زدگان اس ماہ رمضان کی فیوض و برکات سے لطف اندوز ہوسکیں گے؟ جب انتظامیہ مفلوج ہوچکی ہو تو عوام کیا کریں۔
اس بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
Read more »
Posted by Unknown on Thursday, August 26, 2010
اب تک ہونے والے ٹیسٹ میچز میں ہماری بولنگ کا معیار بہتر سے بہتر ہوتا جارہا ہے، محمد آصف ،محمد عامر، سعید اجمل نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ ہماری فیلڈنگ اور بیٹنگ ابھی تک پرفارمنس نہ دکھلاسکی، لیکن اس کے برعکس وہاب ریاض کی فائیو اسٹار پرفارمنس کے بدولت اوول ٹیسٹ کاپہلا دن پاکستان کے نام رہا، نوجوان لیفٹ آرم فاسٹ بولر نے ڈیبیو ٹیسٹ میں پانچ وکٹ لے کر اپنا انتخاب درست ثابت کردیا، ان کی عمدہ بولنگ کی وجہ سے انگلش ٹیم پہلی اننگز میں 233 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔کرکٹ بورڈ ٹیم کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ٹیم کھیل کے ہر شعبے میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔
وہاب ریاض کی اچھی کارکردگی پہ آپ اپنی رائے کا اظہارکیجئے۔
Read more »
Posted by Unknown on Thursday, August 26, 2010
پیپلز پارٹی کے جاگیرداروں اور رہنماؤں کے اثاثے بچانے کیلئے سیلابی پانی کا رخ بلوچستان کی طرف موڑنے پر جہاں حکومت بلوچستان اور اہم سیاسی رہنماؤں کی طرف سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پرالزامات لگائے جارہے ہیں وہاں پیپلز پارٹی کے اندر بھی شدید جنگ چھڑ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی بلوچستان کے سیکرٹری جنرل اپنی پارٹی کے وفاقی وزرا خورشید شاہ اور اعجاز جاکھرانی کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ رہنما بلوچستان کے 10لاکھ لوگوں کو بے گھر کرنے اور سیکڑوں ایکڑ زیر کاشت رقبہ کی تباہی کے ذمے دار ہیں۔ پی پی پی بلوچستان کے سیکرٹری جنرل بسم اللہ خان کاکڑنے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں بلوچستان کی طرف سے غیر ضروری طور پر پانی کا بہاؤ موڑنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ”دی نیوز“ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ اور اعجاز جاکھرانی نے اپنی زمینیں اور جیکب آباد میں امریکیوں کے زیر استعمال شہباز ایئر بیس بچانے کے لئے سیلابی پانی کا رخ بلوچستان کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک ہردلعزیزجماعت ہے اور دو طاقت ور وزرا کی طرف سے بلوچستان کی طرف سیلابی پانی چھوڑے جانے پر بلوچستان بھر میں ہماری جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حکومت نے خورشید شاہ اور اعجاز جاکھرانی کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا تو اس سے پوری دنیا میں پارٹی کی بدنامی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر طاقت ور وزرا کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے تو انسانوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے بھی پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سومرو سردار نے خورشید شاہ کو اپنی چاول کی فصل بچانے کے لئے پانی کا رخ صحرائے تھر کی طرف موڑنے کے عوض20 ملین روپے کی پیشکش کی تھی جس سے دس لاکھ افراد کو بچایاجا سکتا تھا مگر خورشید شاہ نے یہ پیشکش مسترد کردی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ مراد میں تباہی پھیلانے کے بعد سیلابی پانی کا رخ شہباز ایئر بیس کی طرف ہوگیا تھا مگر اس کی شدت زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی ریلے میں ڈوبنے والے گھروں کی تعمیرمیں تین نسلوں نے حصہ لیا مگر بارسوخ لوگوں کے باعث یہ چند گھنٹوں میں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ ان کے سیکرٹریٹ سے جاری پریس ریلیز میں انہوں نے پانی کا بہاؤ موڑنے کو ایک مجرمانہ عمل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت بلوچستان کو اس کے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آردرج کرا کر عدالتوں سے انصاف حاصل کرناچاہئے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کا رخ بلوچستان کی طرف موڑنے کے لئے توری بند میں شگاف کیا گیا۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان جمالی نے پہلے ہی سیلابی پانی کا رخ بلوچستان کی طرف موڑنے کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر ظفر اللہ خان جمالی جن کا آبائی علاقہ سیلابی پانی میں تباہ ہوگیا، ادھر بلوچستان حکومت نے بھی سندھ کی طرف سے پانی کا رخ بلوچستان کی طرف موڑے جانے کے خلاف بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔
سیلابی پانی کا رخ موڑنے کی سیاست ہمیں کس سمت لے جارہی ہے؟
کیا سیلابی ریلا سیاستدانوں کی بے حسی کا مذاق نہیں اڑا رہا ہے؟
جاگیر دار ،زمیندار اور وڈیرے کب تک ملک کی قسمت سے کھیلتے رہیں گے؟
مفادات کی اس جنگ پر اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
Read more »
Posted by Unknown on Thursday, August 26, 2010
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بد امنی کے واقعات سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں کچھ عرصہ امن سے گذرنے کے بعد یہی صورتحال پیدا ہوتی رہتی ہے اور ترقی کرتا شہر نا معلوم لوگوں کی کی جانب سے پھیلائی گئی بدامنی کا شکار ہوجاتا ہے، کاروبارک جاتا ہے ٹرانسپورٹ معطل ہوجاتی ہے، اسکول کالج بند کروادئے جاتے ہیں،آخر اس کا کوئی حل تو ہونا چاہئے، کراچی میں گزشتہ کئی دن سے پر تشدد واقعات جاری ہیں جس میں80
سے زائد افراد ہلاک ہو چکیہیں اب یہ شورش بڑھتی جارہی ہے، جس کا تدارک ضروری ہے کیونکہ کراچی ملک کا سب سے بڑا آبادی والا صنعتی شہر ہے، بزنس حب ہے۔ کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری سب کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والاطبقہ ایک مزدور اور غریب آدمی ہے جو روز مرہ کمائی کا محتاج ہے،کراچی میں امن کی بحالی ہر جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار اد ا کریں، کراچی کی وجہ سے سارا ملک متاثر ہوتا ہے، کراچی کی مضافاتی بستیوں میں جو اس وقت صورتحال ہے،واقعی تشویشناک ہے، آپ کے خیال میں کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کس طرح ممکن ہے؟اس کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا کون دے گا؟ کیا کراچی کا امن پورے ملک کی ضرورت نہیں،
کراچی واقعات اور اس کے حل کے لئے آپ کے پاس کیا تجاویز ہیں ؟
اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
Read more »